دل و دماغ کی جنگ

دُشمن ملک، نان اسٹیٹ ایکٹرز یا ان کے مقامی سہولت کاروں کی جانب سے مسلط کردہ ایسی غیر اعلانیہ اور خفیہ جنگ جس کے ذریعے ملک میں افراتفری، معاشی بدحالی اور عوام کو کنفیوژ اورفکری طور پر منتشراورتقسیم کر دیا جاتا ہے” ففتھ جنریشن وار فئیر“ کہلاتی ہے۔ یہ ایک طرح کی ”سائبر وار “ بھی ہے جو سوشل میڈیا کے ذریعے لڑی جاتی ہے۔ اس جنگ میں قوم کا مورال ڈائون کرنے اور انتشار پھیلانے کے لیے فیک آئی ڈیز اور نامعلوم اکائونٹس کے ذریعے شرانگیز ٹوئٹس اور پوسٹس، مسلکی، لسانی اور علاقائی خلیج کو گہرا کرنے کے لئے نامعلوم تحریریں، اسی طرح فیک اور ایڈیٹ شدہ ویڈیوز وائرل کر کے ملکی وقار کو سپوتاژ کیا جاتا ہے۔ ”ففتھ جنریشن وار فئیر“ صرف حکومت، فوج یا دفاع پر مامور اداروں کا مسئلہ نہیں، یہ ہم سب کا مشترکہ مسئلہ ہے۔ ہم سب کسی نہ کسی شکل میں اس کے ا سٹیک ہولڈر ہیں۔ یہ ملک ہمارا ہے، خدانخواستہ اسے کوئی نقصان پہنچا تو وہ ہم سب کا مشترکہ نقصان ہو گا۔ فرسٹ جنریشن وار تا ففتھ جنریشن وار(1st Generation Warfare to 5th Generation Warfare) جنگوں کے ماڈل (Warfare Model) وقت کے ساتھ ساتھ تبدیل ہوتے رہے ہیں۔ ان ماڈلز میں سب سے خوفناک، تباہ کن اور ہمہ جہتی ماڈل ”ففتھ جنریشن وار فیئر“ ماڈل ہے۔ ففتھ جنریشن ماڈل کو سمجھنے کے لیے گزشتہ ماڈلز کا اجمالی خاکہ ملاحظہ فرمائیں۔ فرسٹ جنریشن وار فئیر (1st Generation Warfare) یہ قدیم ترین جنگی ماڈل ہے، جو 19 ویں صدی کے آخر تک چلتا رہا۔ اس ماڈل میں انفنٹری یا فوج کے دستے ایک دوسرے کے آمنے سامنے صف آرا ہو کر لڑتے اور انسانی قوت کے غلبے اور فوجی دستوں کی عددی برتری کو کامیابی کا منبع سمجھا جاتا تھا۔ سیکنڈ جنریشن وار فئیر (2nd Generation Warfare)سیکنڈ جنریشن وار فیئر ”ٹیکنالوجی“ کی جنگیں تھیں۔ ان جنگوں میں فوجی دستوں کی جگہ طاقتور ہتھیاروں نے لے لی اور جنگوں میں بڑا اسلحہ، جیسے: مشین گن، رائفل، توپ اور جنگی کشتیاں استعمال ہونے لگیں۔ اس ماڈل کے مطابق جس کے پاس دشمن سے بہتر اسلحہ اور بہتر فوجی تربیت ہو گی، وہی کامیاب ہو گا۔ یہ جنگی ماڈل 19 ویں صدی کے وسط میں شروع ہوا اور ابھی تک کچھ جنگیں اسی کے تحت لڑی جا رہی ہیں۔ تھرڈ جنریشن وار فئیر (3rd Generation Warfare) تھرڈ جنریشن وار فیئر ماڈل ”جنگی آئیڈیاز“ کی بنیاد پر شروع ہوا۔ اس ماڈل میں دشمن کو حیران کر دینے والی اچانک حکمتِ عملی اور جنگی چالوں پر زور دیا گیا۔ ان جنگوں میں مختلف چالوں سے دشمن کو ششدر اور مفلوج کر دینے کی نئی حکمت عملیوں کو کامیابی کی کنجیاں تصور کیا جاتا ہے۔ اس جنریشن کی جنگوں میں ائیر کرافٹس، یعنی جنگی طیاروں کا استعمال بھی شروع ہوا۔ فورتھ جنریشن وار فئیر (4th Generation Warfare) فیصلہ کن بے پناہ طاقت کا سُرعت سے استعمال کر کے دشمن کو کچلنے اور مفلوج و مغلوب کر دینے کی جنگی حکمتِ عملی اس ماڈل کا خاصہ ہے۔ پوری قوت کے ساتھ کارپٹ بمباری ، ڈیزی کٹر بمباری اور افواج کی تیز رفتار پیش قدمی وغیرہ اس ماڈل کی مثالیں ہیں۔ ففتھ جنریشن وار فئیر (5th Generation Warfare) یہ مکمل طور پر غیر اعلانیہ جنگی ماڈل ہے، جس کے تحت کم خرچ بالا نشیں پراکسی لڑائیاں، مکمل فتح کے بجائے دشمن کو مسلسل مصروف رکھنا اور گھائل کرتے رہنا، دشمن کو اس کی معمولی غلطیوں اور پروپیگنڈوں کی وجہ سے علاقائی و عالمی سطح پر بدنام کر کے الگ تھلگ اور کمزور کرنا، عوام میں ذہنی خلفشار، احساسِ عدم تحفظ، احساسِ کمتری، لسانیت اورعصبیت پیدا کرنا شامل ہے۔ یہ جنگ سائبر اسپیس سے لے کر عملی میدانوں تک، جعلی خبروں و تصاویر سے لے کر جعلی کرداروں تک ہر محاذ پر لڑی جاتی ہے۔ اس ماڈل کے تحت ملک میں خلفشار، معاشی بد حالی، نظریاتی ٹکرائو اور انارکی پھیلانے کی منظم سازشوں کو عملی جامہ پہنایا جاتا ہے۔ پاکستان، اسلامی فلاحی ریاست، اسٹریٹیجک وسائل اور مستحکم دفاعی صلاحیت پر مشتمل ایک ایٹمی ملک ہے۔ دشمن اچھی طرح جانتا ہے کہ پاکستان کو روایتی یا ایٹمی ہتھیاروں کے ذریعے فتح کرنا ممکن نہیں، اس لیے وہ 5th Generation Warfare کے ذریعے اپنے مکروہ عزائم کی تکمیل کے لیے سرگرمِ عمل ہے۔ آئیے! ففتھ جنریشن وار کے بارے میں ذرا تفصیل سے جانتے ہیں۔ ففتھ جنریشن وارفیئر کا میدانِ جنگ کسی زمانے میں دشمن کا ہدف ہماری افواج اور سرحدیں ہوا کرتی تھیں، مگر اب دشمن کا نشانہ افواج اور سرحدیں ہی نہیں، بلکہ ساری عوام اور پورا ملک ہے۔ خانہ جنگی اور انتشاردشمن کے کارندے مقامی سہولت کار وں کے ذریعے عوامی مقامات پر دھماکے اور قتل عام کرواتے ہیں۔ ان حملوں کا اصل ہدف وہ نہیں جو مر جاتے ہیں ، بلکہ وہ کروڑوں لوگ ہوتے ہیں جو زندہ بچ جاتے ہیں اور جن کی بقیہ ساری زندگی خوف و ہراس ، تشویش اور مایوسی میں گزرتی ہے۔ باہمی خانہ جنگی کا لازمی نتیجہ معاشی تباہ حالی ہے۔ معاشی بدحالی میں عوام ایک نہ ختم ہونے والے تنازعے کی طرف بڑھتے ہیں، صوبے ایک دوسرے پر اپنا حق دبانے کے الزامات عائد کر کے تعصب کا شکار ہوجاتے ہیں، قوم پرست و علیحدگی پسند تنظیمیں زور پکڑنے لگتی ہیں اور یہیں سے دشمن کو افرادی قوت میسر آ جاتی ہے۔ ہر ریاست چند اساسی نظریات کی بدولت معرضِ وجود میں آتی ہے، یہی نظریات آئین اور قانون کی شکل میں اس ریاست پر لاگو ہوتے ہیں۔ ففتھ جنریشن وار کے ذریعے ان بنیادی تصوارت کو ٹارگٹ کیا جاتا ہے۔ ریاست کی مختلف اکائیوں کو جوڑنے والے بنیادی تصورات اور آئین کے بارے میں شکوک وشبہات پیدا کیے جاتے ہیں، جس کی وجہ سے ملک میں انارکی اور افراتفری پیدا ہوتی ہے۔ پروپیگنڈوں کے ذریعے عوام میں جھوٹ، غیرضروری تشویش، مایوسی ،خوف اور نفرتیں پھیلاکر تفرقہ ڈالنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ اس مقصد کے لیے رائے عامہ ہموار کرنے کی صلاحیت رکھنے والے افراد اور نوجوان دُشمن کا اولین ہدف ہوتے ہیں ۔ ففتھ جنریشن وارفیئر کے ہتھیار، خانہ جنگی، پراکسی لڑائیاں، معاشی بدحالی ، نظریاتی سرحدات کی پامالی، عوام میں ذہنی خلفشار، عوام میں مایوسی پھیلانا، مختلف طبقات کے مابین نفرتوں کو فروغ دینا، قومیت، لسانیت اور عصبیت کی آگ کو بھڑکانا، سوشل میڈیا کے ذریعے پروپیگنڈے کرنا، فیک ویڈیوزبنانااورگمنام ناموں سے نا معلوم تحریریںوائرل کرناہے۔پروپیگنڈوں کی ترویج کے لیے میڈیا اور جدید ٹیکنالوجی کا سہارا لیا جاتا ہے، جس کا سب سے بڑا ذریعہ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس ہیں۔ دشمن اپنا پتھر ہمارے ہاتھ میں اور اپنی زبان ہمارے منہ میں رکھ کر ہمارے خلاف استعمال کرنا چاہتاہے ۔ میرے ہم وطن بھائیو! یاد رکھو کہ ہم ففتھ جنریشن وارفیئرکا شکار ہیں اور ہم پر مسلط کر دہ یہ جنگ اتحاد واتفاق کے بغیر نہیں لڑی جا سکتی۔ اگرآپ اپنے پیارے وطن پاکستان کوافغانستان، عراق، شام اورلیبیا وغیرہ بننے سے بچانا چاہتے ہیں تو پھر ہمیں چوکنا رہنا ہوگا اور اپنے ارد گرد ماحول پر گہری نظر رکھنا ہوگی کہ کہیں دشمن ہمارے درمیان تو نہیں چھپا بیٹھا۔ مشتری ہشیار باش کہ ”ففتھ جنریشن وار“ دل و دماغ کی جنگ ہے!
٭٭٭

اپنا تبصرہ بھیجیں