دو نہیں ایک پاکستان

دو نہیں ایک پاکستان

وزیراعظم پاکستان متعد بار کہہ چکے ہیں کہ یہاں ادارے کرپٹ ہیں میرٹ پر کام کرانا یہاں ناممکن نظر آ رہا ہے۔رشوت اور سفارش کے بخیر کوٸی کام نہیں ہوتا۔حاصل پور ضلع بہاولپور کے پسماندہ علاقہ کی اعلی تعلیم یافتہ بیٹی جو پی ایچ ڈی ہولذر ہے۔طیبہ وارث رانا جس نے دن رات محنت کرکے سی ایس ایس میں اور بعد ازاں انٹرویو میں کامیابی حاصل کی ۔مگر بد قسمتی سے اس نے سفارش نہ کراٸی۔اپنی اعلی تعلیم اور قابلیت کی وجہ سے اسے پورا یقین تھا ۔کہ اسے کامیابی ضرور ملے گی۔سی ایس ایس کے امتحان میں آٹھارہ ہزار سے زاٸد امیدواروں نے حصہ لیا۔جس میں سے 375 کامیاب قرار پاٸے۔انٹرویو کے بعد 364 امیدوار فاٸنل کٸے گٸے۔ایک اعلی تعلیم یافتہ قابل بیٹی کو پہلے نمبروں پر رکھنے کی بجاٸے 231 نمبر پر رکھا گیا۔جو اس سے کم تعلیم یافتہ تھے۔ان کو پہلے نمبروں پر کسیے رکھا گیا ہے۔یہ ایک سوالیہ نشان ہے۔رٹیاٸر سرکاری افسر یہ لسٹ مرتب کرتے ہیں۔جو قابل بچوں کے ساتھ ایک اور ظلم ہے۔سرکاری افسران سروس کے دوران رشوتلیتے ہیں۔رٹیاٸر ہو کر ایماندار کیسے ہو سکتے ہیں۔طیبہ وارث رانا کے عزویزوں نے وزیر اعظم پاکستان اور وزیر اعلی پنجاب۔چیف آف آرمی سٹاف اور محترم چیف جسٹس آف پاکستان سے یہ مطالبہ کیا ہے۔کہ جن بچوں کو یہ پہلے پچاس نمبروں پر لاٸے پہیں۔ان سے ایک بورڈ تشکیل دیکر ہماری بیٹی کے ساتھ ٹسیٹ لیا جاٸے۔تمام میرٹ سامنے آ جاٸے گا۔پسماندہ علاقہ کی قابل اعلی تعلیم یافتہ بیٹی کو اس کے جاٸز حق سے محروم کرنے والوں کے خلاف کارواٸی عمل میں لاکر ریاست مدینہ والے انصاف کریں۔جبکہ اس دل برداشتہ اعلی تعلیم یافتہ بیٹی نے کہاہے۔کہ پسماندہ علاقہ کے لوگ جن کے پاس سفارش نہیں ہے۔وہ اپنے بچوں کو اعلی تعلیم نہ دلاٸیں۔جب تک ملک میں میرٹ کانظام اور سخت احتساب نہیں ہو گا۔اس وقت تک نیا پاکستان بن نہیں سکتا۔جنوبی پنجاب کے بٹرے عہدوں پر برجمان لیذروں سے بھی اپیل ہے۔کہ وہ پسماندہ علاقہ کی اعلی تعلیم یافتہ بیٹی کو انصاف کی فراہمی میں اپنا کردار ادا کریں …

اپنا تبصرہ بھیجیں