“48 ٹن خیرات کا تحفہ”

“48 ٹن خیرات کا تحفہ

گذشتہ دنوں وزیراعظم کے دورہ سعودی عرب کے دوران باقاعدہ ایک فنکشن منعقد کر کے سعودی حکومت نے پاکستانی عوام کیلئے 48 ٹن خیرات کا تحفہ پاکستانی حکومت کے حوالے کیا تو مجھے بے ساختہ وہ کہانی یاد آ گئی جس میں کسی بھیک مانگنے والی ایک خوبصورت خاتون کو جب بادشاہ نے دیکھا تو وہ اس پر فریفتہ ہو گیا اور اس سے شادی کر کے اسے اپنے محل میں لے آیا۔ بادشاہ کے محل میں اس بھکارن کو ملکہ کی حیثیت سے سب سہولیات فراہم کر دی گئیں جن میں مہنگے ملبوسات، اعلیٰ قسم کی استعمال کی چیزیں اور لذیذ کھانوں سمیت ضروریات زندگی کی سب چیزیں شامل تھیں۔ لیکن اس کے باوجود ملکہ پریشان رہتی اور اس کا دل کرتا کہ وہ کھانا مانگ کر کھائے۔ لہٰذا اپنی عادت سے مجبور ہو کر اس کا حل یہ سوچا کہ اس نے اپنے کمرے میں کئی جالے (خانے) بنوا لئے اور جب نوکر اسے روزانہ کھانا کمرے میں دے جاتے تو وہ کھانے کو چند حصوں میں تقسیم کر کے ان جالوں میں رکھ دیتی اور پھر ایک ایک جالے کے سامنے کھڑی ہو کر اسکے سامنے ہاتھ پھیلاتی اور کہتی کہ “جالا دے نوالہ” اور پھر اس جالے سے خود ہی کھانا نکال کر کھا لیتی اس طرح اپنی بھوک بھی مٹا لیتی اور اپنی عادت بھی پوری کر لیتی
پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور کھانے کی اجناس دنیا کے کئی ممالک کو برآمد کرتا رہا ہے لیکن کرپٹ سیاسی لیڈر شپ کی وجہ سے پاکستان میں گذشتہ پانچ دہائیوں میں زرعی شعبے کی کارکردگی میں کمی واقع ہوئی ہے اور فنانس ڈویژن کی ایک رپورٹ کے مطابق ساٹھ کی دہائی میں اس شعبے کی گروتھ 5.1 فیصد تھی، ستر کی دہائی میں 2.4 فیصد، اسی کی دہائی میں 5.4 فیصد، نوے کی دہائی میں 4.4 فیصد اور موجودہ صدی کی دہائی میں 3.2 فیصد ہے پاکستان میں اقتصادی ترقی کی شرح موجودہ حکومت کے دور میں گذشتہ حکومتوں کے مقابلے میں کم ہو کر تقریباً آدھی رہ گئی ہے اس طرح ہماری عزت سے بے توقیری کا یہ سفر انتہائی تیز رفتاری کے ساتھ جاری ہے اب ہم ایک بھکاری قوم بن چکے ہیں اور دنیا سے زکوٰۃ اور فطرانہ کی امداد حاصل کر کے خوشی سے پھولے نہیں سماتے اور اس لیڈر کے ہاتھوں جو بیس سال سے کشکول توڑنے اور ہاتھ پھیلانے سے پہلے مر جانے کے بھاشن دیتا رہا ہے واقعی ہم میں وٹامنز کے ساتھ غیرت کی بھی شدید کمی ہے کہ ہم بھیک کا مال مانگ کر لے آنے پر بھی بغلیں بجاتے ہیں۔ نجی بنکوں کی سینکڑوں برانچز بند کی جا رہی ہیں، حکومت کی طرف سے آئے روز بجلی، گیس اور ٹیکسز میں اضافہ کی وجہ سے مجبور ہو کر کارخانہ دار طبقہ اپنا کاروبار بند کر کے بنگلہ دیش سمیت اور ممالک میں جا رہا ہے لیکن وزیراعظم کو کوئی یہ سمجھانے والا نہیں کہ خان صاحب یہ کوئی اتنی مشکل سائنس نہیں کہ کسی ملک میں کارخانے بند ہونے اور لنگر خانے کھلنے سے ترقی نہیں آتی بلکہ اس سے بھکاریوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا ہے۔ معاشی پالیسیاں بنانے اور ان پر عمل درآمد کے لئے ہمیشہ ماہرین درکار ہوتے ہیں لیکن اس حکومت میں تو کالج میں پڑھنے والے منچلے لڑکوں کی طرح سب شور ڈالنے اور نہیں چھوڑوں گا، اربوں ڈالر فلاں جگہ سے آ جائیں گے اور ہم آئی ایم ایف کے منہ پر دے ماریں گے جیسے ڈائیلاگ مارنے والے لوگ شامل ہیں اور آپکے وزیر ناقص کارکردگی کی وجہ سے ایک منسٹری کو جب برباد کر لیتے ہیں تو آپ ان کو دوسری میں بھیج دیتے ہیں۔ خان صاحب ہم یہ آپ سے پوچھنے کی جسارت کر سکتے ہیں کہ وہ ماہرین کی ٹیم کدھر گئی؟ جس کا اعلان آپ کنٹینر پر کھڑے ہو کر کرتے تھے وہ قیامت والے دن لے کر آنے کا ارادہ ہے کیونکہ موجودہ کابینہ میں شامل لوگوں کے پاس تو نہ کوئی سیاسی سوچ ہے، نہ پالیسی اور نہ کوئی طویل المدتی منصوبہ بندی پاکستان جیسے اکیس کروڑ باسیوں میں سے نو کروڑ غریبوں کے ملک کا معاشی ناانصافی کی وجہ سے دنیا کے 188 ملکوں میں سے انسانی ترقی کے حوالے سے 147 واں نمبر ہے سابق حکومتوں کی طرح اب بھی اقتصادی ترقی صرف امیر لوگوں کے گرد گھوم رہی ہے سرمایہ کاری کے بہتر مواقع بھی مال دار طبقہ کے لئے ہی ہیں جبکہ عام اور غریب آدمی کیلئے 48 فیصد بے روز گاری کا تحفہ موجود ہے، وزیراعظم صاحب خدارا ہوش کے ناخن لیں اپنی کابینہ میں تبدیلی کے ساتھ اپنی سوچ میں بھی تبدیلی لائیں ان تمام لوگوں کی لیاقت آپ نے دیکھ لی ہے ان لوگوں نے جتنا کھا لیا ہے یہ انکی کئی نسلوں پر کافی ہے اب ان سے جان چھڑائیں انکی چھٹی کرائیں کابینہ میں ایماندار قسم کے ٹیکنوکریٹ بھرتی کریں یہ کونسا مشکل کام ہے پورے پاکستان سے آپ کو تیس پینتیس بندے نہیں ملتے۔ اگر یہاں سے نہیں ملتے تو باہر سے منگوا لیں جو اپنے آپ سے مخلص ہونے کی بجائے اپنے کام سے مخلص ہوں بے شک پرانی کابینہ میں سے دو چار بندے اپوزیشن کو گالی گلوچ کرنے کیلئے رکھ لیں۔ لیکن ان کے ہاتھوں آپ تبدیلی کے خواب نہ دیکھیں تو بہتر ہے۔ نئی کابینہ کو زرعی ترقی کا ٹاسک دیں، چھوٹی صنعتوں کی طرف توجہ دیں، کٹے کٹیاں، بکریاں بھیڑیں، مرغیاں انڈے اور بیری کے شہد کے ذریعے معیشت کو ٹھیک کرنے کی بجائے روزگار کے معقول مواقع پیدا کرنے کی کوشش کریں، سب سے اہم بات کہ جاگیردارانہ سماجی نظام کو زوردار ٹھوکر لگانے کیلئے تعلیم اور زراعت پر توجہ مرکوز کریں ناخواندگی ہماری ذہنی پستی کیلئے کینسر کا کردار ادا کر رہی ہے جبکہ زراعت ہماری معیشت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے اور یہ ہماری افرادی قوت کے پچاس فیصد حصے کو روزگار فراہم کرتی ہے میں آپکو یقین دلاتا ہوں کہ سب کام چھوڑ کر اگلے دو سالوں میں آپ پوری توجہ ان دو شعبوں کو ٹھیک کرنے میں لگا دیں تو تبدیلی اب بھی ممکن ہو سکتی ہے ورنہ 48 کی بجائے 48 ہزار ٹن فطرانے اور خیرات کا مال ہم دن میں کھا جائیں گے

اپنا تبصرہ بھیجیں