“دو تہذیبوں کی جنگ  “

دو تہذیبوں کی جنگ  ”

تحریر  سیدساجدعلی شاہ

پاکستان کے ارباب سیاست و اقتدار، سیاسی مصلحتوں اور اقتدار کو طول دینے کی فکر رکھنے والے مہنگائی، بھوک، عریانی و فحاشی اور معصوم بچوں کے ساتھ جنسی درندگی جیسے واقعات، عوام کے جذبات سے ہولی کھیلنے والوں کو کیا ضرورت ہے کہ وہ حلال کو حلال اور حرام کو حرام کہہ سکیں، پاکستان میں اس وقت صورتحال بہت تشوکش کن ہےعالم کفر کی ہمارے داخلی اور خارجی معاملات میں دخل اندازی کسی بہت بڑے طوفان کا اندیشہ دے رہی ہے ، پاکستان کفریہ طاقتوں کی چراگاہ بن چکا ہے،پاکستان ایک آزاد اسلامی جمہوریہ ریاست ہے اس کے حصول کا مقصد، برصغیر پاک و ہند میں انتہا پسند ہندووں سے مسلمانوں کو چھٹکارہ دلانا تھا انگریز برصغیر میں آیا تو اپنا طرز زندگی لایا، مذہبی اقدار کو ختم کیا اپنا تعلیمی نظام اور طرز تعلیم لایا اور ہماری آنکھوں کے سامنے ہمارے بچے مغربی سانچے میں ڈھل گئے مغربی ہیرو ہمارے مسلمان بچوں کے ہیرو بن گئے پھر ہمارے ملک میں دو قسم کے نظام تعلیم آگئے,طبقاتی نظام سے ایک حکمران اشرافیہ اور دوسرے سے عام آدمی،آپ اسےدو نظاموں کی جنگ کہیں، آزادی سے لے کر اب تک جتنے حکمران ملک پر مسلط کیے گے انہوں نے ہمیں کیا دیا، کرپشن،بے ایمانی، سود، زنا، جواء، عریانی و فحاشی، حوا کی بیٹیوں کو چادر سے محروم کیا، کوٹھے پر پہنچا کر نچوایا یہ سارے کام مولوی نے نہیں بلکہ حکمرانوں نے کیے، جمہوریت میں زیادہ سے زیادہ آپ دفاع کرسکتے ہیں پاکستان میں اب تک اسلام کو بطور نظام سیاست و ریاست اور عدالتی بالا دستی حاصل نہیں ہے میرے نزدیک پاکستان ہو یا عالم اسلام یا پوری دنیائے انسانیت جو موجودہ نظام کے زیر اثر ہے اس نے انسان کو اس کے اعلی کردار، اخلاق اور اقدار سے محروم کردیا ہے اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ یہ نظام کفار کا وضع کردہ ہے ان کے پاس اخلاقی اقدار کا وہ پیمانہ ہی نہیں ہے جو اسلام کا ہے اور آج اسی اسلامی آزاد ریاست پر ایک مرتبہ پھر وہی کفریہ طاقتیں اپنے ناپاک عزائم کے ساتھ مملکت خداداد اسلامی جمہوریہ پاکستان پر حملہ آور ہوچکی ہیں ملک کے سیاسی، معاشی حالات انتہائی خطرناک صورتحال اختیار کر گئے ہیں جب کہ حکومت کی اڑھائی سالہ کارکردگی انہتائی مایوس کن رہی ہے ملک دفاعی لحاظ سے مضبوط ہے لیکن سیاسی طور پر پاکستان اس وقت مختلف خوفناک بحرانوں سے گزر رہا  ہے دینی قوتوں کے گرد گھیرا تنگ کیا جارہا ہے تعلیمی اداروں کو شکنجے میں جکڑ کر نیا نصاب لانے اور اسرائیل کو تسلیم کرنے کی کوشیش ہورہی ہیں،اس وقت پوری دنیا میں اسلام و کفر کے درمیان جنگ جاری ہے آج کل ہمارے روشن خیالی کے حامی افراد ایڑیاں اٹھا اٹھا کر اپنے ملک کی سرحدوں کے اس پار بیھٹی ہوئی اسلام دشمن قوموں کو یہ بتانے کی کوشش کررہے ہیں کہ وہ ہم نہیں جو تم سمجھتے ہو بلکہ جو کچھ ہمارے پاس ہے وہ تمہاری اداوں پر قربان کرنے کے لیے تیار ہیں بلوچستان میں بیرونی قوتیں ملک کی سلامتی اور استحکام کے خلاف سازشیں کر رہے ہیں گزشتہ دنوں ایف سی کے جوانوں پر حملہ اور مچھ میں مزدوروں کا قتل بھی اسی بیرونی سازش کا حصہ یے جو ملکی سلامتی کے درپے ہیں لیکن پاک فوج پوری طرح چوکس ہے اور بیرونی جارحیت کا ہر طرح سے مقابلہ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے پاک فوج ہمارے ماتھے کا جھومر ہے جو ملک کی جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کا فریضہ سر انجام دے رہی ہے، آج کے دور کے ابو جہل اور عتبہ دین حق کو مٹانے کے لیے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہے ہیں کتنے ہی ابرہہ  اپنی ہاتھیوں کے لشکر لے کر پاکستان کی سرحدوں کو مسمار کرنے کے لیے نکلے ہوئے ہیں لیکن ابابیلوں کے جھنڈ ان کی کوششوں کو ناکام کر رہے ہیں، شعائر اسلام کو دہشتگردی سے موسوم کیا جارہا ہے آئے روز نام نہاد دہشتگردی کی آڑ میں معصوم بے گناہ افراد کا قتل عام کیا جارہا ہے وہی پرانے کردار نئے چہروں اور ناموں کے ساتھ اس ملک کی قسمت سے گھناونا کھیل کھیلا جارہا ہےحکمرانوں نے ریاست مدنیہ کا نعرہ لگا کر قوم کو مدنیہ سے دور کرنے کا بیرونی ایجنڈہ مسلط کر دیا ہےوزیراعظم کا وزیروں سے  کارکردگی کا مطالبہ کرنا خواجہ سراوں سے  مردانگی کا مظاہرہ کرنا کا مطالبہ ہے ملک کو آئین کے مطابق چلایا جائے اور حلف کی پاسداری کی جائے، عقیدہ ختم نبوت وحدت امت کی بنیاد ہے قادیانیوں کو آئین پاکستان کا پابند کیا جائے قادیانی اسلام قبول کر لیں تو مسلمان کہلانے کے حق دار ہیں دین اسلام کی دعوت انسانیت کی سب سے بڑی خدمت ہے عوام کی آزادی ،سالمیت،عصمت و آبرو کی نیلامیوں کے سودے کیے جارہے ہیں جب کہ عوام کو مہنگائی میں الجھا کر معیشت سنوارنے کے جھوٹے جھانسے دے کر ان کی حمیت کو سلایا جارہا ہے، ٹوپی ڈرامہ ملکی سطح پر رچا کر عوام کو بے وقوف بنایا جارہا ہے اور دوسری طرف حکمرانوں کی طرف سے انصاف کے علمبردار سیاست کا لبادہ اوڑھ کر امریکی ایجنڈے کی “سیکولر ازم” پالیسی کو مکمل کرنے کے لیے تیار ہوکر میدان میں اتر چکے ہیں بلوچستان کے حالات خطرناک حد تک علیدگی پسندی کی طرف جارہے ہیں بھارت کی طویل منصوبہ بندی کو کامیابی کی راہ دینے کے لیے مچھ میں ناحق مزدوروں کے قتل نے جلتی پر تیل کاکام کیا ہے اس وقت پاکستانی عوام کے اندر شدید اضطراب اور بے چینی پائی جارہی ہے ایک طرف عوام پر معاشی بدحالی، فحاشی و عریانی، قرضوں،دہشتگردی اور مغربی کلچر کے اندھیرے مسلط کر دئیے گے ہیں اور دوسری طرف ملکی سرزمین کو فروخت کرکے جوکہ پہلے ہی سابق صدر پرویز مشرف کی نااہلی اور امریکی دوستی کی وجہ سے تنگ ہوچکی ہے اور امریکی سازشوں کی آماجگاہ بن چکی ہے، ایسے حالات میں کہ جب کفریہ طاقتیں چاروں اطراف سے حملہ آور ہوچکی ہیں پاکستانی فوج ہی ایک قابل اعتماد قومی ادارہ ہے جسے عوام احترام اور قدر و اعتماد کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، لیکن سوچنے کی بات یہ ہے کہ 1971ء سے لے کر 2020ء تک جمہوری حکومتوں نے اس ملک کو کیا دیا، اس کو بچانے کے لیے اگر درست راستوں کا یقین کر لیا جائے تو ابھی بھی منزل کو پانا مشکل نہیں ہے، معاشی،ثقافتی،سیاسی، تعلیمی اور معاشرتی زوال اور بد حالیوں سے نکلنے کا ایک ہی راستہ ہے اور وہ ہے قرآن و سنت کا راستہ، نفاذ اسلام کا راستہ، جمہورت کو ملک کے انتظامی، قانونی اور معاشی ڈھانچے کو تباہ و برباد کرنے کے لیے کئی بار آزمایا گیا لیکن یہ ناکام رہی، یہ جمہوری نظام کا ہی شاخسانہ تھا کہ اس وقت کے جمہوری حکمران  نے عوامی طاقت کے بل بوتے پر آدھا پاکستان بھارت کی جھولی میں ڈال دیا اور پاکستان کے ازلی دشمن بھارت کو غیور بنگالی عوام پر مسلط کردیا اسی جمہوریت کے پردے میں ذوالفقار علی بھٹو نے ادھر تم ادھر ہم کا نعرہ لگا کر عوامی امنگوں کا خون کردیا آج ایک بار پھر اسی جمہوریت کی آڑ میں پرانا خوفناک کھیل نئی غلامانہ سوچ اور نئے سٹیج پر کھیلا جارہا ہے ایسے افراد جو جمہوریت کے لبادے میں پاکستان کی جڑوں کو اندر ہی اندر دیمک کی طرح چاٹ کر کمزور کر رہے ہیں ان کو سیاسی حلقوں سے نکالنا ناممکن ہوچکا ہے اور اس ملک کو اپنی ذاتی جاگیر اور عوام کو اپنے نسلی غلام سمجھتے ہیں جب تک جمہوریت جیسا پر فریب نظام موجود ہے سیکولر ذہنیت کےافراد منتخب ہوکر ایوانوں میں آتے رہیں گے آج ہمیں سوچنا یی ہے کہ جن مصائب و سنگین معاشی اور معاشرتی مسائل میں گھرے ہوئے ہیں یہ کس نظام کا زہریلا پھل ہے اسلامی قوانین تو صرف کاغذوں میں لکھے ہوئے ہیں وہ عملا تو نافذ نہیں کیے جاسکے، آج کی اظہار رائے کی آزادی کے نام پر ہمیں کہاں لاکھڑا کیا ہے، اخلاقی، معاشرتی اور فکری تمام برائیاں طاقتور ہوچکی ہیں جبکہ نیکی اور شرم و حیا سر چھپاتی پھر رہی ہیں کسی بھی محکمے میں رشوت کے بغیر کوئی کام نہیں ہوسکتا، سود کے بغیر کاروبار نہیں چل سکتے،ڈراموں کے ذریعے بداخلاقی اور بے حیائی پھیلائی جارہی ہے نئے سلیبس کے عنوان پر نونہالان وطن کو سیکولر اور خدا کے تصور سے بھی عاری بنایا جارہا ہے جرائم اور دہشتگردی کی ہولناکی ہر دن کے ساتھ بڑھ رہی ہے اس میں سب سے زیادہ خوفناک جنسی درندگی ہے معصوم بچیاں تک محفوظ نہیں اور جنسی درندگی کے بعد ان بچے بچیوں کو قتل کردیا جاتا ہے یہ سب اس موجودہ نظام کا شاخسانہ ہے ملک میں جاری افرا تفری، سیاسی انتقام و عداوت اور آپس کی نا چاقیوں کی بدولت ملک اور اسلام دشمن طاقتیں بھرپور فائدہ اٹھا رہی ہیں اور مملکت خداداد کو ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت سیکولر ریاست بنانے پر عمل درآمد شروع ہوچکاہےمغربی قوتیں مملکت خداداد اسلامی جمہوریہ پاکستان کو سیکولر ریاست بنانے کی سازشوں میں مصروف عمل  پاکستان کو سیکولر ریاست بنانے کے لیے سوچے سمجھے فیصلے، اقدامات اور پالیسیاں بروے کار لائی جا رہی ہیں اور ملک میں اسلام کے عادلانہ، منصفانہ اور مساوات پر مبنی نظام کے نفاذ کے امکانات  کمزور سے کمزور تر کیے جارہے ییں،حلال وحرام،پاک و ناپاک کی حد بندیوں سے آزادی ،عریانی،فحاشی، بے حیائی اور بدکاری کو آزادی کے نام پر تحفظ دے کر فروغ دیا جا رہا ہے اور مسلمانوں  کو دنیا و آخرت تباہ کرنے والی جہنمی زندگی کی طرف دھکیلا جا رہا ہے

تمام مذہبی، سیاسی اور سماجی جماعتوں  کے قائدین کو ذاتی مفادات سے بالاتر ہو کر پرامن طریقے سے ملک کے مفاد کی خاطر ایک پلیٹ فارم پر اکھٹا ہونا پڑے گا کیونکہ ہمارا پیارا وطن اس وقت نازک ترین حالات سے گزر رہا ہے ، دشمن کی گندی نظریں ہماری سرحدوں کی طرف لگی ہوئی ہیں, بلوچستان کافی عرصے سے عالمی استعماری قوتوں کے خصوصی نشانے پر ہے اس خطے میں ہمارے بدترین ہمسایہ ملک بھارت کی ریشہ دوانیاں بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں ہیں، افغانستان میں چپے چپے پر قائم بھارتی قونصل خانوں کا اس کے علاوہ اور کیا مصرف ہے بلوچستان بھارت کے ساتھ ساتھ امریکہ کی بھی خاص توجہ کا مرکز ہے امریکہ کی ہمیشہ سے یہ مذموم کوشش رہی ہے کہ یہ علاقہ کسی طرح آزاد ہوجائے تو خطے میں اسے ایک بہترین اڈے کی سہولت میسر آجائے گی چنانچہ بلوچستان میں علیدگی کی تحریکوں کو پروان چڑھانے اور یہاں کی محرومیوں کو کیش کرانے میں امریکہ کی خاص دلچپسی ہے مچھ جیسا واقعہ انتہائی قابل مذمت ہے لیکن ضرورت  اس بات کی ہے کہ ایسے واقعات کے اصل محرکات و اسباب اور اس کے اصل ماسٹر مائنڈ  لوگوں کو تلاش کرکے اسے قرار واقعی سزا دی جائے نہ کہ اس بات پر محض اتفاق کر لیا جائے کہ یہ ہمارے مخالف فرقے کی کار ستانی ہے یہ روش سراسر سطحی اور غیر حکیمانہ ہے اسی سے ملک میں فرقہ واریت کو مسلسل فروغ مل رہا ہے غرض جب ان عالمی استعماری طاقتوں کو علیدگی پسندگی سے مایوسی کے سواء کچھ ملتا نظر نہیں آتا تو اب انہوں نے پاکستان بالخصوص بلوچستان میں اپنا پرانا ہتکھنڈہ لسانیت اور فرقہ واریت کی آگ میں دھکیلنے کی ناپاک جسارت کر رہا ہے لیکن ہم سب کو چاہیے کہ آج ملک کے دفاع کی خاطر یک جان بن جائیں اگر آج  بھی ہم نے وطن کی خاطر آپس میں اتفاق نہ کیا  تو ہمارا انجام کیا ہوگا یہ تو پھر آنے والا وقت ہی بتائے گا اللہ تعالی پاکستان کو دشمنوں کے ناپاک ارادوں سے محفوظ رکھے آمین

اپنا تبصرہ بھیجیں