اخبار کی تاریخ صدیوں پر محیط ھے ہزار سال پہلے دھات کی تختیوں پر خبر لکھنے کا آغاز ھوا بعد ازاں ریشم کےکپڑوں پر دستی تحریر کیا جانے لگا

عامر سہیل (تحصیل رپورٹر)

تفصیلات کے مطابق چئیرمن ایگزیکٹو کونسل جنوبی پنجاب چودھری طاھربشیرچیمہ،راہنماتحریک انصاف محترمہ فاطمہ طاہر بشیر چیمہ،چئرمین وزیر اعلیٰ شکایت سیل ضلع بہاولنگر چودھری اللہ داد چیمہ نے اپنے مشترکہ پیغام میں کہا کہ اخبار کی تاریخ صدیوں پر محیط ھے ہزار سال پہلے دھات کی تختیوں پر خبر لکھنے کا آغاز ھوا بعد ازاں ریشم کےکپڑوں پر دستی تحریر کیا جانے لگا جبکہ ایشیاء میں اخبار کی تاریخ 250سال پرانی ھے اخبار کااپنامسلک،عقیدہ،رحجان(پالیسی)ھوتاھےصحافت کا اصول ھےکہ خبروں کو معروضی انداز میں پیش کیاجائےخبروں کابنیادی وصف اسکی صحت ھےکسی واقعہ کابےلاگ, غیر جانبدرانہ اوردیانتدرانہ بیان ھی خبرکہلاتاھےاخبار کے ذریعے عصری حالات کارخ موڑنے کی صلاحیت پیداھونا بہت ضروری ھےاردواخبارمفید معلومات اور حقائق لکھ کر لوگوں کے دلوں میں مقام پیدا کرتاھےالیکڑانک کے اس جدید دور میں اردو اخبار پردوہری ذمہ داریاں آن پڑی ہیں کہ وہ لوگوں میں آخبار بینی کا شوق پیداکرے اور اردو صحافت کی بدولت دلچسپ خبروں اور مفید معلومات کے ذریعے کردار سازی کا فریضہ انجام دے یہی اصلاح معاشرہ ھےاوریہی خدمت اور عبادت ھےروزنامہ دی جرنل ایک بڑی ذمہ داریوں کا نام ھےدعاھے کہ آج کے اس دور میں دی جرنل قومی،علاقائی مسائل کی نشاندھی اور مظلوم کو انصاف دلانے میں بھر پور کردار اداکرے۔آمین

اپنا تبصرہ بھیجیں